اسلام آباد : محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیرخان پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک

اسلام آباد ( اسپیشل رپورٹر ) ممتاز ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سپرد خاک کردیا گیا۔ ڈ یلی جستجو ڈ اٹ کام اور جستجو نیوز ڈٹ تی وی کے مطابق ڈاکٹرعبدالقدیرخان کواسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردخاک کردیا گیا ، جسد خاکی کی تدفین سے قبل گارڈ آف آنرز پیش کیا گیا، مسلح افواج و پولیس کے دستوں نے سلامی پیش کی۔ اس سے قبل ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خواہش کے مطابق ان کی نماز جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی۔ نماز جنازہ پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے پڑھائی ، ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ کے موقع پر سیکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے، نماز جنازہ کے دوران بارش بھی ہوتی رہی۔ نمازِ جنازہ میں قائم مقام صدر سینیٹر صادق سنجرانی اور وفاقی وزراء سمیت سیاسی و عسکری قیادت نے بھی شرکت کی۔ وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے نماز جنازہ کے حوالے سے اپنی ٹوئٹ میں کہا کہ تیز بارش میں فیصل مسجد اور باہر سڑکوں پر لاتعداد لوگوں کو ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جنازے میں شرکت کے لئے آتے دیکھ کر پتہ چل رہا ہے کہ یہ قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی۔ مسجد سے واپسی پر کم سے کم ایک میل تک لوگ مسجد کی طرف جاتے نظر آ رہے تھے جو رش کی وجہ سے وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کافی عرصے سے علیل تھے۔ اتوار کی علی الصبح ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پھیپھڑوں میں تکلیف کے باعث اسپتال منتقل کیا گیا تھا تاہم وہ جاں بر نہ ہو سکے اور خالق حقیقی سے جا ملے۔ پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے اور اس کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا انتہائی اہم کردار تھا۔ مئی 1998 میں پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے بعد کامیاب تجربہ کیا۔ بلوچستان کے شہر چاغی کے پہاڑوں میں ہونے والے اس تجربے کی نگرانی ڈاکٹر قدیر خان نے ہی کی تھی۔ انہوں نے 150 سے زائد سائنسی تحقیقاتی مضامین بھی لکھے۔ یکم اپریل 1936 کو موجودہ بھارت کے شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے ڈاکٹر عبد القدیر خان قیام پاکستان کے بعد اپنے خاندان کے ہمراہ پاکستان آگئے تھے اور انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کرلی تھی، انہوں نے 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے میٹالرجی میں ڈگری حاصل کی، بعد ازاں وہ مزید تعلیم کے لیے یورپ چلے گئے، انہوں نے جرمنی اور ہالینڈ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ انہوں نے ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جبکہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی اسناد حاصل کیں۔ ڈاکٹر عبالقدیر خان 15 برس یورپ میں رہنے کے بعد سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی درخواست پر 1976 میں پاکستان واپس آئے، انہوں نے 31 مئی 1976 میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں اسی ادارے کا نام یکم مئی 1981 کو جنرل ضیاءالحق نے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھ دیا۔ یہ ادارہ پاکستان میں یورینیم کی افزودگی میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز نے نہ صرف ایٹم بم بنایا بلکہ پاکستان کے لئے ایک ہزار کلومیٹر دور تک مار کرنے والے غوری میزائل سمیت کم اور درمیانی رینج تک مارکرنے والے متعدد میزائل تیار کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ 14 اگست 1996 کو اس وقت کے صدر مملکت فاروق لغاری نے انہیں پاکستان کے سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز سے نوازا، اس سے قبل انہیں 1989 میں ہلال امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنانے والے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وفات پر پوری قوم افسردہ ہے اور گہرے رنج کا اظہار کررہی ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹرعبدالقدیر خان نے پاکستان کے دفاع کو مضبوط بنانےمیں گراں قدر خدمات سر انجام دیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند کرے۔ وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر نے بڑے جوہری ملک کی جارحیت سے ملک کو محفوظ بنایا، پاکستانی عوام کے لیے وہ ایک قومی ہیرو تھے، پاکستانی عوام کے لیے وہ ایک قومی مثال تھے، پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے پر پوری قوم ان سے محبت کرتی ہے،ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی وصیت کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر بہت دکھ ہوا، ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے قوم کی حفاظت کے لیے ایٹمی طاقت بنانے میں پاکستان کی مدد کی، ہم ایک شکر گزار قوم کی حیثیت سے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کو کبھی نہیں بھولیں گے، اللہ تعالیٰ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو جنت الفردوس میں اعلی مقام عطا فرمائے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی ملک کیلئے خدمات ناقابل فراموش ہیں، اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت اور درجات بلند کرے۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ڈاکٹر قدیر خان نے اپنی صلاحیتوں سے ملکی دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا، ڈاکٹر عبدالقدیر کی وفات قومی سانحہ ہے، قوم آج عظیم مسلم سائنسدان اور قومی ہیرو سے محروم ہو گئی، پوری امت مسلمہ صدیوں تک ان کی خدمات کو یاد رکھے گی۔خدا انہیں اپنے جوار رحمت میں جگہ دے۔ پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قائد حزبِ اختلاف شہباز شریف نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کے انتقال پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان کے دفاع اور سلامتی کی ایک قابلِ فخر تاریخ اور جدوجہد کا نام تھا، ان کی زندگی پاکستان سے محبت کی کہانی ہے، اسلام اور پاکستان ہی ان کا مطمع نظر رہے ان کی تمام زندگی پاکست

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں