بیجنگ : چین کے آگے سر نہیں جھکائیں گے، تائیوان

بیجنگ ( انٹرنیشنل نیوز ڈیسک ) تائیوان کی صدر سائینگ وین کا کہنا ہے کہ ہم چینی دباؤ کے سامنے جھکے بنا جمہوری طریقے سے اپنا دفاع کریں گے۔ بی بی سی کے مطابق سائینگ وین کا یہ بیان چینی صدر شی جنگ پنگ کی حالیہ اشتعال انگیز تقریر کے بعد سامنے آیا ہے۔ تائیوان کے قومی دن کے موقع پر اپنی تقریر میں ان کا کہنا تھا تائیوان جمہوریت کی پہلی دفاعی لکیر پر کھڑا ہے، ہم جلد بازی میں رد عمل نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی تائیوان کو اس بات کے لیے مجبور نہیں کرسکتا جس راستے پر چین ہمیں لے جا نا چاہ رہا ہے اور نا ہی یہ تائیوان کی 23 ملین آبادی کی خود مختاری کے لیے جمہوری راستہ ہے، ہم چین سے برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے ابھی بھی راضی ہیں۔ واضح رہے کہ چین اور تائیوان کے درمیان ہر گزرتے دن کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جس کی وجہ سے خطے کا امن خطرے میں پڑ گیا ہے۔ جب کہ تائیوان کی سرحد کے نزدیک چین کی فوجی نقل و حرکت، جنگی طیاروں کی پروازیں اور بحری مشقوں سے پیدا ہونے والی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ چین کے صدر شی چن پنگ نے ایک بار پھر تائیوان کے انضمام کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ تائیوان چین کا حصہ تھا اور جلد پُرامن طریقے سے دوبارہ چین میں شامل ہوجائے گا۔ اس حقیقت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ تائیوان نے چین کے صدر کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جزیرے کی قسمت کا فیصلہ کوئی اور نہیں بلکہ وہاں رہنے والے عوام کریں گے، ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن دفاع کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ خیال رہے کہ تائیوان کو چین اپنا حصہ سمجھتا ہے جب کہ تائیوان خود کو آزاد ریاست تصور کرتا ہے جس پر دونوں کے درمیان کشیدگی اور تنازع کئی برس سے چلا آرہا ہے جب کہ حال ہی میں کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ خطے کے امور نے ماہرین نے کہا کہ چین اور تائیوان کی کشیدگی سے خطے کا امن خطرے میں ہیں تاہم یہ خوش آئند بات ہے کہ دونوں ممالک نے مسئلے کے پُر امن حل پر زور دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں