جنیوا : عالمی ادارہ صحت کی جانب سے دنیا کی پہلی ملیریا ویکسین کی منظوری

جنیوا ( انٹرنیشنل ہیلتھ ڈیسک ) گزشتہ روز عالمی ادارہ صحت نے دنیا کی پہلی ملیریا ویکسین کی منظوری دے دی جس کی آزمائشیں 2019 سے تین افریقی ممالک یعنی گھانا، کینیا اور ملاوی میں جاری تھیں۔ وسیع پیمانے کی ان پائلٹ آزمائشوں میں یہ ملیریا ویکسین 23 لاکھ سے زائد افریقی بچوں کو استعمال کروائی جاچکی ہے جس سے بہت اچھے نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ ملیریا دنیا کی سب سے ہلاکت خیز بیماریوں میں سے ایک ہے جو اینوفلیز مچھر کی مادہ میں پائے جانے والے ایک طفیلیے ’’پلازموڈیم فالسیپارم‘‘ کی وجہ سے ہوتی ہے جو اس مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی خون میں منتقل ہوجاتا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، ملیریا نے 2019 میں دنیا بھر کے 22 کروڑ 90 لاکھ افراد کو متاثر کیا، جن میں چار لاکھ سات ہزار افراد موت کے منہ میں چلے گئے۔ ان میں بڑی تعداد کم عمر بچوں کی تھی۔ یہ ملیریا ویکسین، جس کا تکنیکی نام RTS,S/AS01 اور تجارتی نام ’’موسکویرکس‘‘ (Mosquirix) رکھا گیا ہے، برطانوی ادویہ ساز ادارے گلیکسو اسمتھ کلائن نے تیار کروائی ہے۔ اس بارے میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ایڈہانوم گیبرئیسس کا کہنا ہے کہ یہ ویکسین افریقہ میں، افریقی سائنسدانوں نے تیار کی ہے جو ایک قابلِ فخر بات ہے۔ موسکویرکس کا مکمل کورس چار خوراکوں پر مشتمل ہے جو چھوٹے انجکشن کے ذریعے 6 ہفتے سے 17 مہینے تک کے بچوں کو لگائی جاتی ہیں۔ ایسے ہر انجکشن میں دوا کی مقدار 0.5 ملی لیٹر ہوتی ہے۔ ملیریا ویکسین کی پہلی تین خوراکوں کے درمیان تیس تیس دن کا وقفہ ہوتا ہے جبکہ چوتھی خوراک ان کے 18 ماہ بعد لگائی جاتی ہے۔ بتاتے چلیں کہ یہ ویکسین 1987 میں بنالی گئی تھی لیکن اسے طویل مرحلہ وار آزمائشوں سے گزار کر، 34 سال بعد منظور کیا گیا ہے۔ اس ملیریا ویکسین کی کارکردگی صرف 30 فیصد کے لگ بھگ ہے یعنی یہ ملیریا کے باعث بیمار پڑنے اور مرنے والے افراد کی تعداد میں 30 فیصد تک کم کرسکتی ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، اگر افریقہ میں ملیریا سے بیمار پڑنے اور مرنے والوں میں 30 فیصد کمی بھی ہوگئی تو یہ 80 لاکھ افراد کو بیماری سے، جبکہ تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کو مرنے سے بچانے کے مترادف بات ہوگی۔ البتہ افریقی بچوں میں ملیریا کے خطرناک اور ہلاکت خیز وبائی پھیلاؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے عالمی ادارہ صحت نے یہ ویکسین صرف پانچ سال تک کے بچوں کےلیے منظور کی ہے۔ یہ صرف ’’پلازموڈیم فالسیپارم‘‘ طفیلیے سے پیدا ہونے والے ملیریا کے خلاف مؤثر ہے جو افریقہ کے علاوہ دنیا کے بیشتر علاقوں میں ملیریا سے بیماری اور اموات کی سب سے بڑی وجہ بھی ہے۔ دوسرے طفیلیے ’’پلازموڈیم ویواکس‘‘ سے ملیریا کے خلاف یہ ویکسین بالکل بھی کارگر نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں