کراچی : قومی خلائی ادارے سپارکو کے تحت ’عالمی خلائی ہفتے‘ کا باقاعدہ آغاز

کراچی ( سائنس و ٹیکنالوجی رپورٹر ) پاکستان کے قومی خلائی ادارے، سپارکو (پاکستان کمیشن برائے بالا فضائی اور خلائی تحقیق) کے زیرِ اہتمام ملک بھر میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کے موضوع پر ’بین الاقوامی خلائی ہفتے‘ (ورلڈ اسپیس ویک) کا آغاز ہوگیا ہے۔ واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ کے تحت ورلڈ اسپیس ویک ہر سال چار سے دس اکتوبر تک منایا جاتا ہے۔ اس ضمن میں سپارکو ملک بھر میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی آگہی اور شعور کے لیے کام کرتا رہا ہے جسے بین الاقوامی پذیرائی بھی ملی ہے۔ کراچی میں واقع نیشنل سینٹر فار ریموٹ سینسنگ اینڈ جیو انفارمیٹکس (این سی آرجی) میں باقاعدہ طور پر سپارکو کی تقریبات کا آغاز ہوا۔ تقریب کے مہمانِ خصوصی رکن خلائی ٹیکنالوجی جناب امین بہادر تھے۔ اپنے ابتدائی کلمات میں انہوں نے کہا کہ ہر سال دنیا کے 90 سے زائد ممالک میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی تقریبات کا آغاز ہوتا ہے۔ اس سال خلائی سائنس میں خواتین کی شمولیت کو بطور تھیم (موضوع) رکھا گیا۔ ممبر اسپیس ٹیکنالوجی جناب امین بہادر نے کہا ہے کہ سپارکو 2005 سے ورلڈ اسپیس ویک کی تقریبات منارہا ہے۔ سپارکو میں کئی قابل خواتین نہایت اہم کردار ادا کررہی ہیں جو ادارے کا بنیادی حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی 2018 میں پاکستان کا پہلا ریموٹ سینسنگ سیٹلائٹ پی آر ایس ایس ون تیار کیا اور اسے جینی خلائی ایجنسی کی مدد سے خلا میں بھیجا گیا تھا۔ اس کے بعد پاکستان کا پہلا ٹیکنالوجی ایویلیوایشن سیٹلائٹ پاک ٹی ای ایس ون اے بنایا گیا جو پاکستان میں ہی ڈیزائن کیا گیا جس میں ملکی ماہرین نے اہم ترین کردار ادا کیا ہے۔ اب اگلے مرحلے میں پاکستان کا ملٹی مشن سیٹلائٹ ایم ایم ون بنایا جائے جس سے پاکستان کی خلائی خود انحصاری، ملٹی اسپیکٹرل (کثیرطیفی) تصویر سازی اور ٹیکنالوجی پرمہارت میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے ریموٹ سینسنگ اور جیوانفارمیٹکس شعبہ جات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں پاکستان کے تمام اداروں کو معلومات اور ڈیٹا کی خدمات فراہم کی جارہی ہیں۔ ان میں سی پیک منصوبے اور انفرااسٹرکچر کی دیگر معلومات بھی شامل ہیں۔ پاکستانی عوام اور بالخصوص نوجوانوں میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی تعلیم اور آگہی پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کووڈ 19 کے تناظر میں سپارکو نے ’اسپیس ایجوکیشن اینڈ اویئرنیس ڈرائیو‘ (ایس ای اے ڈی) پر کام کیا ہے جو سپارکو کا ایک بہت وسیع پروجیکٹ بھی ہے۔ جناب امین بہادر نے بتایا کہ اس سال اسپیس ویک کے لیے سندھ، بلوچستان، پنجاب، اسلام آباد، خیبرپختونخواہ اور گلگت بلتستان سے 1500 اسکولوں نے حصہ لیا ہے۔ تقریب میں8 سے 11 برس تک کے بچوں کی جانب سے ’میں خلانورد ہوں‘ مقابلے کے پوسٹر بھی رکھے گئے۔ اسی طرح خلائی اسکول اور خلائی سفیر کے مقابلے کے شرکا نے بھی تقریب میں حصہ لیا۔ اس کے علاوہ لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کی آگہی کے لیے خصوصی بسیں بھی ڈیزائن کی گئی ہیں۔ چار اکتوبر سے شروع ہونے والی یہ تقاریب دس اکتوبر تک جاری رہیں گی جن میں بہترین خلائی اسکول، خلائی سفیر، آن لائن ٹریننگ، ویبینارز، رات کو فلکیاتی مشاہدے اور دیگر ورچول تقاریب شامل ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں